بدلتے تقاضوں کو ذہن میں رکھ کر پہلی اقدار میں مناسب اور بروقت تبدیلی اسی صورت ممکن ہے کہانسان انجانی علامتوں کے وجود میں آنے کا سبب جان سکیں اور پورے شعور کے ساتھ اپنے ارادے کااستعمال کرتے ہوئے قدر میں مناسب تبدیلی کریں۔

یہ کرتے ہوئے وہ احساسِ جرم سے آزاد ہوں اور ایسا علم کے بغیر ممکن نہیں۔ جہالت انسانی نفسیات میں بے بنیاد اقدار سے انحراف کی وجہ سے احساس جرم تو پیدا کر دیتی ہے اور منحرف ہونے والا یا تو خود کو مجرم سمجھتا رہتا ہے یا بغاوت کر کے مجرم کی حیثیت سے معاشرے میں برے انسان کا کردار قبول کرنے کا عذاب سہتا ہے۔

علامت انسانی علم اور ترقی میں بیحد اہم کردار ادا کر چکی ہے اور علم کی ہر شاخ میں علامتوں کا بیش بہا ذخیرہ آج طویل اور مشکل مسائل کو سمجھنے میں معاون ہے۔ علم میں بھی اگر کوئی علامت اپنا مفہوم دینے میں ناکام ہو جائے اور اگر اُس کے بغیر علم اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہو تو ایسی علامت کو ریکارڈ کے طور پر محفوظ کر لینا چاہیے کہ یہ فلاں زمانے سے لے کر فلاں وقت تک اِن مسائل کے حل میں معاون رہی ہے لیکن فلاں حالات میں زیرِ استعمال نہیں ہوئی۔ ایسا کرنے سے علامتوں کا ایک ذخیرہ بعد میں آنے والوں کے لئے کسی مخصوص صورتِ حال میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ انسانوں کے ماحول میں علامت کو بننے سے روکنا شاید اتنا ممکن نہ ہو جتنا علامتوں کے معنی کو ہر عہد میں دوبارہ کھولنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

سجاد خالد