005 

پچھلے ہفتے برادر محترم محفوظ صاحب کا ایک کتبہ فنی تنقید اور تدریس کی غرض سے پوسٹ کیا تھا جسے دوستوں نے کثرت کے ساتھ پسند کیا اور دُعا کی کہ یہ سلسلہ چلتا رہے۔ اس کے ساتھ ایک دو احباب کو

خدشہ محسوس ہُوا تھا کہ اس سے کچھ خطاط یا اُن کے شاگرد حضرات ناراض ہو سکتے ہیں کہ اُن کے پسندیدہ کام پر کیوں تبصرہ کیا جا رہا ہے۔

جب ہم اپنا کام اپنی جانب سے مکمل کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر سیتے ہیں تو ہمیں ہر طرح کے تبصرے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ہماری یہ اُمید کہ صرف تعریفیں ہی سامنے آئیں گی درست نہیں ہوتی۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ صحت مند اور مخلصانہ تنقید کی بنیاد رکھی جائے تو یہ کڑوا گھونٹ ہمیں پینا ہو گا۔۔

میں نے اُن سےپوچھا کہ کوئی مومن اس بات پر خوش ہو گا کہ اُس کا عیب اُسے بتا دیا جائے یا ناراض ہو گا۔ وہ کہنے لگے کہ اُسے خوش ہونا چاہئے۔

اس بار اپنے محترم دوست اور دُنیا کے ممتاز خطاط برادر محمد علی زاہد کا ایک فنپارہ پیشِ خدمت ہے۔ یہ فنپارہ 2013 میں ایک عالمی مقابلے میں چوتھے انعام کا مستحق قرار پایا ہے اور یہ بات ہم پاکستانیوں کے لئے اعزاز کا باعث ہے۔

نوٹ: یہ ضروری نہیں کہ میں نے جن حصوں کی نشاندہی کر دی ہے آپ صرف انہی پر بات کریں۔