ترکی ، عربی ، مصری ، فلسطینی ، سورین اور برصغیر پاک و ہند کےفنکاروں نے اس مقابلے میں حصہ لیا ۔ ترکی سے براہ راست بہت سے خطاطوں نے اپنے نمونے بھیج کر اس مقابلے میں خصوصی طور پر طبع آزمائی کی ۔

اس مقابلے کے سلسلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ چونکہ مقابلہ میں شریک کسی بھی فنکار کے فن پارے پر فنکار کا نام درج نہیں تھا اس لیے کسی سفارش یا شخصی جانبداری کا خدشہ نہیں تھا ۔ سب کو اس بات پر مکمل یقین تھا کہ جس فنکار کا کام سب سے اچھا ہو گا اور اس بات کا اہل ہو گا کہ وہ مسجد نبوی میں اپنے جوہر دکھا سکے ، اسی کو منتخب کیا جائے گا لہٰذا تمام فنکار اس کے نتیجے کا انتظار کرنے لگے ۔

خوش قسمتی سے منصف اعلی ممتاز ترک استاذ احمد ضیاء الدین ابراہیم سمیت تمام منصفین اور محکمہ اوقاف کے فیصلے کے مطابق شفیق صاحب کے فن پارے کو کسی ترک استاذ کا فن پارہ سمجھ کر سب سے بہتر قرار دے دیا گیا ۔ بعد میں تمام ججوں اور محکمہ اوقاف کو یہ جان کر ازحد مسرت بھی ہوئی اور تعجب بھی ہوا کہ یہ کسی پاکستانی خطاط کا کام ہے ۔ اس کے بعد شفیق الزماں کو مسجد نبوی میں خطاطی کے لیے منتخب کر لیا گیا ۔ جب سے اب تک انھوں نے دس گنبدوں میں کام کے علاوہ "باب البقیع" اور "باب الرحمتہ" کے گنبدوں میں خط ثلث میں اپنی خطاطی کا کام مکمل کر لیا ہے اور اب ان دنوں محراب الرسول کے اوپر "ریاض الجنتہ" کے گنبدوں میں خطاطی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔

اب تک محکمہ اوقاف ، مسجد نبوی کے منتظمین اور ترکی کے متعدد اساتذہ شفیق صاحب کی خطاطی سے بے انتہاء متاثر اور خوش ہیں اور شفیق صاحب بھی اپنی خصوصی دلچسپی ، پوری ذمہ داری اور دیانتداری سے مسجد نبوی میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔