فارسی کا لفظ خوش نویس اور عربی لفظ " خطاط اردو میں بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے خوبصورت لکھائی کرنے والا۔
ہمارے دوستوں میں جن کی لکھائی دوسروں سے بہتر ہوتی ہے ان کی تحریر پڑھتے ہوئے ہم زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ہمارے دل میں ان کی عزت بڑھ جاتی ہے۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ کبھی ہم بھی ایسا لکھ سکیں۔ اگر کبھی کوئی قول ،جملہ، آیت یا حدیث ہماری توجہ
کامرکز بنتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہوہی دوست بڑے سائز ہیں مارکرکے ساتھ لکھ دے تاکہ ہم یہ آرٹ پیسفریم کروا کر اپنے گھر یا کلاس روم میں لگائیں۔
جن لوگوں میں ابتداء ہی سے باریک بینی، نفاست، نازکی اورذہانت پائی جاتی ہے ان میں خوش نویس بننے کی صلاحیت دوسروں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ آرٹ سے دلچسپی رکھنے والے افراد عام طور پر زیادہ حساس بھی ہوتے ہیں اور خوبصورتی کو بھی بے حد پسند کرتے ہیں۔ یہ لوگ باتیں کم کرتے ، اپنے کام میںمگن رہتے ہیں اور اپنے جیب خرچ سے سکیچ بُک، مارکر، واٹر کلر یا برش خریدتے ہیں۔
جب تک کوئی شخص اپنے شوق کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہوتا اُس وقت تک وہ اُسے پورا کرنے کے لیے وقت، سامان اور سیکھنے کے لیے اُستاد کا انتظام نہیں کرتا۔ اگر آپ مجھ سے کہیں کہ آپ کو خوش نویسی یا خطاطی کو شوق ہے تو میں آپ سے پوچھوں گا کہ لائیے اپنا کام دکھائیے اور یہ کہ آپ کس استاد سے سیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ
’’ انکل میں نے لکھا یابنایا تو کچھ نہیں اور وجہ یہ ہے کہ میرے پاس ڈرائینگ اور خوش نویسی کا سامان نہیں ہے‘‘
تو مجھے مایوسی ہوگی اور میں آپ سے کہوں گا کہ آپ نے عام پنسل، مارکر یا بال پوائنٹ ہی سے کچھ لکھا ہو تو وہ ہی دکھا دیں۔ اور اگر آپ نے کبھی ایسا کام بھی نہیں کیا تو حقیقت میں آپ کو یہ شوق نہیں ہے۔ بس ایک کمزور سی خواہش ہے کہ بغیر کسی محنت کے میری لکھائی اتنی اچھی ہو جائے کہ لوگ تعریف کریں۔
مسلمانوں میں جس آرٹ کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے وہ خطاطی ہے۔ اور اِس کی وجہ اُن کی قرآن مجید سے محبت ہے۔ اللہ کی کتاب کو خوب سے خوب تر لکھنے کی کوشش میں مسلمان پوری دُنیا سے آگے نکل گئی۔ اور خاص طور پر پچھلے چودہ سو برس میں میدان میں اُنہوں نے جس میعار کے فن پارے تخلیق کیے ہیں، اُن کی مثال کسی دوسری قوم کے ہاں تلاش کرنا تقریباً نا ممکن ہے۔
حضرت علیؓ نے خط کوفی میں مہارت حاصل کی اور دو تین صدیوں تک یہ خط قرآن مجید کو لکھنے اور آیاتِ قرآنی کو مساجد یا دوسری عمارتوں پر لکھنے کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ اِس تمام عرصے میں اِس سٹائل نے بہت سی مختلف شکلیں اختیار کیں۔ یعنی مختلف جگہوں پر لکھنے کے لیے الگ الگ انداز اختیار کیا جاتا تھا۔ کہیں سادہ قلم سے کہیں پھول پتیوں سے سجا کر اور کہیں جیو میٹریکلڈیزائن کو اِس کے ساتھ ملا کر لکھا جاتا تھا۔
مسلمانوں میں خطاطی کے اُصول اور مختلف خطوط کی ایجاد کے سلسلے میں سب سے اہم نام اِبن مُقلہ کا ہے۔ اُنہوں نے خط کو ماپنےاور لکھنے کے اُصول بنائے اور انہی اُصولوں کی بنیاد پر خط کی مختلف اقسام کے نام بھی بتائی۔چند مشہور خطوط کے نام خطِ ثُلث، خطِ کوفی، خطِ نسخ، خطِ رقعہ، خطِ دیوانی، خطِ شکستہ۔ خطِ ریحان، خطِ محقق، خطِ تعلیق اور خطِ نستعلیق ہیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ نام یاد رکھنا بہت مشکل ہے۔ جی ہاں اگر صرف نام ہی یاد رکھنے ہوں تو یہ مشکل ہے۔ لیکن اگر آپ کسی اُستاد کے پاس جا کر کسی خط کو سیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو اُس خط کے علاوہ دوسرے خطوط کی پہچان بھی ہوتی جائے گی اور آہستہ آہستہ آ پ تمام خطوں کوپہچاننا شروع کر دیں گی۔
ابن مُقلہ کے بعد مسلمانوں میں خطاطی نے بہت ترقی کی اور یا قوت المستعصمی، ابن البواب، حمد اللہ اماسی، میر عماد الحسنی، میر علی تبریزی، عبد الرشید دیلمی، امام ویردی، حافظ عثمان اور مصطفے راقم جیسے اُستادوں نے اِسے انتہا ء تک پہنچا یا۔ اِسلامی دنیا میں خطاطی کے بڑے مراکز ترکی، عراق، مصر، شام، متحدہ عرب امارات، ایران اور پاکستان ہیں۔ اور ہر ملک میں کسی خاص خط کے ماہر زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
خطاطی کے اِن مراکزمیں قومیاور بین الاقوامیمقابلے بھی ہوتے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا مقابلہ ترکی میں او۔آئی۔سی کے زیر اہتمام ہر تین سال کے بعد کروایا جاتا ہے۔ اِس مقابلے میں انعام اور حوصلہ افزائی پانے والوں کو پوری دُنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ قرآن مجید پرنٹ کرنے والے ادارے اِن کے ہاتھ سے قرآن لکھوا کر فخر محسوس کرتے ہیں اور بڑی بڑی مساجد، مدارس اور اِسلامک سنٹرز والے اِن سے اپنی عمارتوں پر خطاطی کرواتے ہیں۔ جِسے صدیوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
اِسی طرح پاکستان میں بھی بچوں اور بڑوں کے درمیان خطاطی کے مقابلے ہوتے ہیں۔ یہ مقابلے بابر علی فاونڈیشن، پاکستان کیلیگراف آرٹسٹس گلڈ، پاکستان کیلیگرافرز ایسوسی ایشن اور ایوانِ علم و فن کے علاوہ بہت سے سرکاری و غیر سرکاری (پرائیویٹ) اداروں کے زیر اہتمام ہوتے ہیں۔ اِن مقابلوں کے ساتھ خطاطی کی نمائشیں بھی ملک کے اہم شہروں میں موجود آرٹ گیلریز اورعوامی مراکز میں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔
پاکستان میں خطاطی سیکھنے کے لیے جس میعار کے اداروں کی ضرورت ہے وہ تو اِس وقت موجود نہیں ہیں۔ اِس کی ایک وجہ تو وسائل رکھنے والے لوگوں کی اِس فن سے کم دلچسپی ہے اور دوسری وجہ حکومت کی سر پرستی نہ ہونا ہے۔ ایک وجہ شاید خطاط حضرات کا کم تعلیم یافتہ ہونا بھی ہے۔ اِن تمام مسائل کے باوجود پاکستان میں خطاطی کے اُستاد تمام عمر خطاطی کی تعلیم اور خطاطوں کی ترقی کے لیے کوششیں کرتے رہے۔ اِس سلسلے میںاُستاد عبدالمجید پرویں ؔرقم اور استاد تاج الدین زریںؔ رقم سب سے اہم نام ہے۔ اُن کے بعد محمد صدیق الماسؔ رقم، صوفی خورشید عالم خورشیدؔ رقم، حافظ محمد یوسف سدیدیؔ، انور حسین نفیس ؔرقم، حاجی محمد اعظم منور ؔرقم جیسے اُستادوں نے تمام عمر بغیر کسی معاوضے کے اِس فن کی خدمت کی ہے۔ بیٹھک کاتباں کے نام سے ایک ادارہ جسے تاج الدین زریں ؔرقم نے قائم کیا تھا، اُن کی وفات کے بعد اُن کے شاگرد اور جانشین خورشیدؔ رقم نصف صدی تک اِس ادارے میں خطاطی کی خدمت کرتے رہے اور 2004؁ میں اُن کی وفات کے ساتھ یہ سلسلہ ختم ہوا۔
اگر آپ خطاطی سیکھنا چاہتے ہیں تو پاکستان میں آج بھی بہت سے اُستاد یہ ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ اِن میں سب سے اہم نام اُستاد خالد جاوید یوسفیؔ کا ہے جو راولپنڈی میں رہتے ہیں۔ اُن کے ساتھ ساتھ جناب الٰہی بخش مطیعؔ(ہری پور ہزارہ)، جناب محمد علیؔ زاہد(لاہور)، جناب عبد الرحمن عبدہؔ(لاہور) جناب احمد علی بھُٹہ(لاہور)، جناب واجد محمود (لاہور)جناب رشیدؔ بٹ(اسلام آباد) جناب عبد الرؤف دہلوی(کراچی) جناب محمد محفوظؔ (کراچی) جناب غلام مرتضیؔ(کراچی)، جناب اکرامؔ الحق (لاہور) جناب حافظؔ انجم محمود اور جناب عرفانؔ احمد (لاہور) بھی سینکڑوں طالب علموں کو یہ فن سکھا رہے ہیں۔ اگر آپ کوخطاطی کے بارے میں مزید معلومات درکار ہیں تو ہم کتابوں اور ویب سائٹ کی فہرست دے رہے ہیں۔ آپ ان سے استفادہ کر سکتے ہیں۔آخر میں ایک بات پر ذرا توجہ دیں کہ خطاطی ایک پاکیزہ فن ہے۔ اپنے دین، تہذیب اور استادوں کے ادب کے ساتھ جو نوجوان اِس میں محنت کریں گے وہ دوسروں کی نسبت زیادہ کامیاب ہوں گے۔
کتابیں
مرقعِ زریں۔ سبحانی اکیڈمی، اردو بازار، لاہور

تاریخَ خط و خطا طین۔ زوار اکیڈمی، اردو بازار، لاہور

مجموعہ خطاطی۔زوار اکیڈمی، اردو بازار، لاہور

تذکرہ خطاطین۔ فضلی سنز۔ اردو بازار، کراچی

نصابِ خطاطی۔ ملک بُک ڈپو۔اردو بازار، لاہور

ویب سائٹس

calligraphyislamic.com

arabiccalligraphy.com

sakkal.com

art-bismillah.com

art-islamic.com

calligraph-artist.org

islamicart.org

مسلمانوں میں جس آرٹ کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے وہ خطاطی ہے۔ اور اِس کی وجہ اُن کی قرآن مجید سے محبت ہے۔
اِس سلسلے میںاُستاد عبدالمجید پرویں ؔرقم اور استاد تاج الدین زریںؔ رقم سب سے اہم نام ہیں۔
اُن کے بعد محمد صدیق الماسؔ رقم، صوفی خورشید عالم خورشیدؔ رقم، حافظ محمد یوسف سدیدیؔ، انور حسین نفیسؔ ؔرقم، حاجی محمد اعظم منور ؔرقم جیسے اُستادوں نے تمام عمر بغیر کسی معاوضے کے اِس فن کی خدمت کی ہے
سجاد خالد
ایڈیٹر: کیلی گرافی اِسلامک