سجاد خالد، مارچ ۲۰۱۱
مجھے اہلِ فن میں دو طرح کے طرزِ عمل دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ایک یہ کہ فن کار اُن لوگوں کے ذوق کے مطابق فن پارہ تیار کر سکتا ہو جو قوتِ خرید رکھتے ہیں۔
اِس سے اُس کا معاشی مسئلہ حل ہونے میں مدد ملے گی اور وہ معاشرے میں اعتماد کے ساتھ جی سکے گا۔ یہ اعتماد معاش کی بنیاد پر حاصل ہو گا۔ وہ بازار کی ضرورت کے مطابق سامان بنانے والوں میں شامل ہو کر ایک کامیاب تاجر کے طور پر اُبھرے گا۔ وہ ایسا رقاص بن جائے گا جس کے رقص پر نوٹ اور سکے نچھاور کیے جاتے ہیں۔ میں اِس کیفیت کو طوائف کی حالت سے منسوب کروں گا۔ جب تک وہ جوان رہے گی، اُس کی سانس بحال اور آواز سُر میں رہے گی، جسم رقص کے قابل رہے گا، وہ بازار کی زینت ہو گی۔ اور بازار تو اُس کی جوانی کے عین درمیان میں بھی فیصلہ کر سکتا ہے کہ اُس کی جگہ ایک اور طوائف رقص کیا کرے گی۔
 
دوسرا یہ کہ فن کار اپنے فن کے جاننے والوں کے معیار پر پورا اُترنے والا فنپارہ تیار کر سکتا ہو۔اِس صورت میں یہ لازم نہیں آتا کہ پسند کرنے والے قوتِ خرید بھی رکھتے ہوں۔ چنانچہ وہ یہ یقین تو حاصل کر سکتا ہے کہ میرا فن واقعتاً مہارت اور حُسن کے معیار پر پورا اُترتا ہے لیکن معاشرہ اِس بنیاد پر اُس کے معاشی مسئلے کو بھی حل کرسکتاہو، یہ نا ممکنات میں شامل ہے۔یہی وہ المیہ ہے جس کی جانب میں نہ صرف توجہ دلانا چاہتا ہوں بلکہ جس کے ازالے کی کوشش اِس تحریر کی وجہ ہے۔
 
ایک سچا فنکار بننے میں بہترین شخص کی زندگی کا قیمتی ترین وقت اور وسائل کام آتے ہیں اور یہ مقام کہ سچے اہلِ فن کسی فن کار کے کام کو وقعت کی نظر سے دیکھتے ہوں، بہت کم انسانوں کے حصے میں آتا ہے۔ اِس سطح پر کسی فنکار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ فن کی بنیاد پر اُسے معاشرے میں عزت ووقار حاصل ہو، اُسے ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لئے اپنے میدان سے باہر نکل کر کوئی دوسرا کام نہ کرنا پڑے، اُس کے فن کو صحیح بنیادوں پر سمجھنے والے اُس کے کام کا معاوضہ ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔
 
دولت کی غیر منصفانہ انسانی تقسیم کے نتیجے میں فن اور کمال سے جڑے ہوئے افراد اپنی محنتوں اور مہارتوں کا حاصل تو معاشرے میں بانٹتے رہے لیکن دولت کی حرص اور سرمائے کو جمع کرنے کی دوڑ میں شامل ٹولے نے وسائلِ رزق پر قبضہ جما لیا۔ یہ گروہ حسِ جمال سے عاری اور لطافتِ خیال سے محروم رہا کہ یہ چیزیں اُن کےنزدیک کبھی گوہرِ مقصود نہ رہیں بلکہ اِن چیزوں کو سرمائے کے زور پر خرید کر وہ ذوقِ جمال پر سرمائے کی فتح ثابت کرنے میں مصروف رہے۔ جیسے وہ اپنے حلقے میں قیمتی کار، بنگلے، زیور، اور ملازمین کی فوج سے ممتاز ہوتے رہے ویسے ہی اپنے قبضے میں مشہور فنکاروں کے فن پاروں سے تفاخر میں اضافہ کرتے رہے۔ اِس مرض نے معاشرے میں بیمار نفسیات کے حامل افراد کی نئی اور پیچیدہ اقسام متعارف کروائی ہیں۔ کولیکٹرز ہوں یا آرٹ کے نام نہاد نقاد، پروموٹرز ہوں یا اشتہاری مہم چلانے والے چرب زبان بیوپاری ، یہ سارے آرٹ اور جمال کے لاشوں پر منڈلانےوالے گدھ ہیں۔
 
یہاں یہ بھی مناسب ہو گا کہ سوسائٹی میں آرٹ کے نام پر بننے والے نئے اداروں کے کردار کا جائزہ لیا جائے۔ میرے خیال میں ایک زندہ معاشرے میں آرٹ گیلری یا عجائب گھرکی گنجائش ہی نہیں۔ نئی نسل کو اپنے ماضی سے روشناس کروانے کے لئے ہر فن کے تعلیمی اداروں ہی میں عوام الناس کے دیکھنے کے لئے ایسی جگہیں بنائی جا سکتی ہیں تاکہ دیکھ کر محظوظ ہونے والے افراد اِس خوف میں مبتلا نہ ہو جائیں کہ یہ کام دوبارہ کرنا ناممکن ہے بلکہ اپنے سامنے ایسے فنکاروں کو کام کرتے ہوئے دیکھیں جو ماضی سے بہتر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ہر فرد ترقی کے عمل کو اپنے اردگرد زندہ حقیقت کے طور پر تجربہ کر سکے۔ یہ نفسیات کہ ماضی سے بہتر کام نہیں ہو سکتا بذاتِ خود زوال آمادہ ہے۔ ایک زندہ سوسائٹی خود آرٹ گیلری ہوتی ہے اور اپنی ذات میں عجائب گھر۔ آج امریکہ اور یورپ میں چند برس گزار کر آنے والے افراد اپنی روزمرہ زندگی سے متعلق ایسے تجربات اور اشیاءکا ذکر کرتے تھکتے نہیں جن کو سُن کر ہم حیران ہو جائیں یا احساسِ کمتری کا شکار ہو جائیں۔ وہ ایک ایسے معیار کی خبر دیتے ہیں جو اُس سوسائٹی میں خون کی طرح دوڑ رہا ہے۔
 
آرٹ کو سوسائٹی کی رگوں میں خون کی طرح دوڑانے کے لئے اِسے آرٹ گیلری اور عجائب گھر سے آزاد کرانا ہو گا۔ مجھے یہ کہنے میں بھی اعتماد حاصل ہو رہا ہے کہ آرٹ کو لکڑی، لوہے اور پلاسٹک کے اُس فریم یا چوکھٹے سے بھی آزادی چاہیئے جس نے آرٹ کو زندگی اوراستعمال کی اشیاء سے کاٹ کر ڈیکوریشن پیس بنا دیا ہے۔ میرے نزدیک ڈیکوریشن پیس کا تصور بھی مصنوعی کلچر کی پیداوار ہے۔ آرٹ کو اپنے اظہار کے لئے اِس تنگ نائے سے نکل کر انسانوں کی کثیر المناظر زندگی میں دوبادہ جنم لینا ہو گا۔
 
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
تُو اے شرمندہ ِ ساحل اُچھل کر بے کراں ہو جا
 
کلاسیکی فنون کے فلسفے پرگہری نظر ڈالنے سے آپ پر کھلے گا کہ فنون کو مشکل بنانے اور فنی روایت کو سینہ بہ سینہ دفن کر دینے میں سرمائے کے ارتکاز اور انجماد نے کیا کردار ادا کیا ہے۔ یہ بحث تقاضا کرتی ہے کہ اِسے انتہائی باریک بینی اور سنجیدگی سے کھولا جائے لیکن یہاں میں چند اشاروں پر اکتفا کر کے آگے بڑھنا چاہوں گا کیونکہ اِن اشاروں سے زیرِ نظر مضمون میں اُٹھایا گیا نقطہ مزید نکھر کر سامنے آسکے گا۔
 
کلاس سے مراد طبقہ ہے اور اصطلاح میں کلاس سے مراد اشرافیہ ہے۔ جاگیرداری نظام میں وسائل پر ایک خاص طبقے کے قبضے نے دو مختلف نفسیاتی ساختوں کو جنم دیا۔ ایک نفسیات تو اپنے طبقے کو وسائل سے محروم عوام سے ممتاز ثابت کرنے کی تھی جبکہ دوسری نفسیات اپنے طبقے میں ایک دوسرے پر جھوٹی فوقیت ثابت کرنے کی تھی۔ اِن دونوں کیفیتوں کا تقاضا تھا کہ ایسی اشیاء کو اپنے خزانے میں جمع کیا جائے جو کہیں اور نہ پائی جاتی ہوں۔ چنانچہ ایسے فنکاروں تک رسائی حاصل کی گئی جو سوسائٹی میں ممتاز تھے، پھر اُن کی کفالت کر کے اُنہیں ایسے فن پاروں پر کام کرنے میں مصروف کیا گیا جن کی تیاری میں بیش قیمت خام مال بھی درکار تھا اور برسوں کی ماہرانہ محنت بھی۔ ان فنکاروں کو سوسائٹی میں مزید مشہور بھی کیا گیا۔ اب ایک طرف ایسے فن پاروں میں اضافہ ہوتا گیا جو نوابوں، جاگیرداروں اور بادشاہوں کے محلات کی زینت بنتے گئے اور جن کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بھی شاہی محل سے کسی نہ کسی طرح کے مراسم لازم تھے۔ دوسری طرف فن اور مہارت کی استعداد رکھنے والوں کے لئے بھی قبلہ و کعبہ یہی محلات اور جاگیردار تھے۔ اب فنکار اپنی برسوں کی محنت، مہارت اورکے فاقہ کشی کے نتیجے میں تیار ہونے والے فن پارے اُٹھائے کسی شخص کو رشوت دے کر کسی صاحبِ ثروت مداح کی تلاش میں عمریں ضائع کر دیتے اور پھر کسی ایک کو منزل مقصود ملتی۔ کبھی کبھی تو بات صرف ایک لقب یا اعزازی جملے تک ہی پہنچ پاتی اور کبھی خوش قسسمتی مادی وسائل کی معمولی دستیابی سے آگے نہ بڑھتی۔
 
فن کے بارے میں مختلف مکاتبِ فکر بھی محض فن کی بنیاد پر اختلاف نہ کرتے بلکہ اپنی اپنی کفالت اور سرپرستی کی بنیاد پر ایک دوسرے کی عظمت اور حقیقی مقام سے آنکھ چراتے رہے۔ بڑے فنکاروں نے اپنے فن کے طریقوں کو عام لوگوں کی نظر سے اس لئے چھپائے رکھا کہ وہ اپنی اگلی نسلوں کے معاشی مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے تھے۔ جوہرِ قابل تو تھا لیکن معاشرے کی زمین بانجھ ہو گئی تھی کہ بادل ، بارش اور ہوا تک محل کے باغوں کی سیرابی اور بہار کے ضامن بن چکے تھے، یا بنا دئے گئے تھے۔
 

آرٹسٹ کو طوائف کی نفسیات سے آزاد کرنے کے لئے ایک منصفانہ نظامِ زندگی ضروری ہے ۔موجودہ معاشرے میں بھی ایک حد تک ایسا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے جہاں آرٹسٹ اپنے فن کو عام آدمی کی زندگی میں خوبصورتی بڑھانے میں استعمال کرتے ہوئے اپنے لئے رزق اور عزت کے حصول کے امکانات پیدا کر سکتا ہو۔