اپریل، 2011
آرٹ اور کرافٹ کی بحث کا حقیقی پس منظر تو معلوم نہیں لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کی روایتی معاشروں میں یہ بحث کبھی اہم نہیں رہی۔
ہمارے ہاں عوام کی سطح پر مقبول ہونے والے فنکار بھی رہے ہیں اور اشرافیہ کے پسندیدہ فنکار بھی رہے ہیں۔ کلاسیکی یا اشرافیہ کے ہاں پروان چڑھنے والے فنون کے ماہرین ابتداء میں تو عوامی فنون ہی سے وابستہ رہے لیکن سرکاری سرپرستی اور مقام و مرتبے کی رسائی یا خواہش نے اُنہیں عام آدمی سے دور کر دیا۔ اور وہ وقت بھی آیا کہ عام آدمی کی زبان اور فن سے دور رہنے کو اشرافیہ کے ہاں فنکار کے خالص ہونے سے تعبیر کیا جانے لگا۔ یہ بات بھی سوسائٹی میں فخر سے کہی جانے لگی کہ فلاں فنکار اتنا قابل ہے کہ اُس کا کام فلاں نواب، راجہ یابادشاہ پسند کرتا ہے۔ تمام علوم اور فنون کے جاننے والوں درمیان ایک لائن کھنچ گئی۔عام اور خاص کی ایک لائن تو علم اور مہارت سے وابستہ افراد کے درمیان ہوتی ہے اور اسی کو پار کرنے کی خواہش علم و فن میں ترقی کی منازل طے کرواتی ہے لیکن ایک لائن اشرافیہ کے ہاں مقبول ہونے اور نہ ہونے کی بنیاد پر کھنچ گئی تھی۔ اشرافیہ سے وابستہ فنکار درباری زبان اور حفظِ مراتب سیکھ کر اپنے خاندان ہی کے افراد سے خود کو ممتاز سمجھتے۔ وہ محلاتی سیاست، اور درباری منافقت کے ساتھ ساتھ خوشامد کے عادی ہو گئے اور اپنے لئے بھی حقیقی علمی یا فنی تبصرے کی جگہ خوشامد ہی کو پسند کرنے لگے۔ وہ اپنی ذات میں اپنے فن کے حوالے سے اشرافیہ ہی کے نمائندے رہے۔ لیکن ان سادہ لوح لوگوں کو یہ بات نہ معلوم ہو سکی کہ اُن کی حیثیت ایک درباری مسخرے، ایک رقاصہ یا ایک طوائف سے بڑھ کر نہ تھی۔ وہ منافقانہ ماحول میں ملنے والے القاب کو اپنا حقیقی مقام جاننے لگے جبکہ اُن کا حقیقی مقام سوسائٹی کے علم اور فن سے طے ہونا تھا۔
 
دوسری طرف عام فنکار حقیقی پذیرائی سے محروم ہو کر فکرِ روزگار کا زیادہ شکار ہوا۔ وہ سطحیت کا شکار بھی ہوا اور درباری فنکار سے مرعوب بھی۔ وہ نہ تو ایسے وسائل رکھتا تھا کہ فنون کے کلاسیکی معیار پر پورا اُترنے کے تقاضے پورے کر سکے اور نہ ایسا تصورِ فن جو اُسے اس تضاد سے چھٹکارا دلا سکے جو اِس پیچیدہ صورتِ حال کا لازمی نتیجہ تھا۔ عام زندگی میں سطحیت کو اسی راستے سے جگہ ملی۔
 
جب ایک طبقے کے نزدیک دوسرا طبقہ محض ایک خادم کی حیثیت رکھتا ہو تو مخدوم ہر حال میںخادم کو مجبور رکھے گا کہ وہ خدمت ہی میں عافیت محسوس کرے۔ مراعات یافتہ طبقہ ایک طرف مراعات کے کھو جانے کے خوف میں مبتلا ہوتا ہے اور دوسری جانب مراعات کی وجہ سے بننے والے اپنے فنی ذوق کی یوں حفاظت کرتا ہے کہ عام آدمی کی نظر بھی اُس پر نہ پڑ سکے۔ یوں وہ اپنے تفاخر کو ہر زاویے سے محفوظ تر بناتا رہتا ہے۔
 
نو آبادیاتی دور میں لوٹی ہوئی دولت سے صنعتی انقلاب اور بالآخر سرمایہ داری نظام کی بنیاد رکھنے والے زیرک مگر سفاک لوگوں نے جب انسانی ہاتھ کی جگہ مشین سے کام لینا شروع کیا تو کاریگر بھوکے مرنا شروع ہو گئے۔ زندہ رہنے کی کوشش میں ایک خیال یہ آیا کہ ہاتھ کے کام کو جدید معاشرے کی ضرورت کے مطابق ڈیکوریشن پیس بنا دیا جائے۔ کلچر سے اپنا رشتہ جوڑنے کی فطری خواہش نے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پڑھی لکھی مڈل کلاس کے دل میں انگڑائی لینی شروع کی اور ڈیکوریشن پیس، ہاتھ سے بنائے ہوئے ملبوسات، جوتے اور فرنیچر کے ساتھ ساتھ پینٹنگ، مجسمے اور خطاطی کے نمونے بکنے شروع ہو گئے۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے بننے والی نئی اشرافیہ کو شاید یہ خطرہ محسوس ہوا کہ اس طرح اُن کی انفرادیت ہاتھ سے جا رہی ہے۔ تو 'لو آرٹ' اور 'ہائی آرٹ' کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ 'ہائی آرٹ' کو فائن آرٹ کہا گیا اور 'لو آرٹ' کو صنعت اورکارخانے سے منسوب کیا گیا۔ لیکن جب اِس سے بھی جی نہ بھرا تو باقی ہر چیز کے لئے نسبتاً کم درجے کا لفظ 'کرافٹ' ڈھونڈا گیا۔
 
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب برطانوی یونیورسٹیوں میں آرٹ کے شعبے کو معیشت پر بوجھ سمجھ کر بند کرنے کی آواز بلند ہوئی تو انہیں بحال رکھنے کے لئے وعدہ کیا گیا کہ آرٹ کو انڈسٹری یا صنعت میں اپنا کردار ادا کرنے کا اہل بنایا جائے گا اور کرافٹ جسے 'لو آرٹکہہ کر حقیر مانا گیا تھا ایک منافقانہ سہارے کے طور پر کام میں لایا گیا۔
آرٹ اور کرافٹ میں امتیاز کی بنیاد مہارت کی جگہ تخلیقی جوہر کو رکھ دیا گیا۔ کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کہ تخلیق سے آپ کی مراد کیا ہے، اور تخلیق سے کوئی ایک مطلب نکالنے کا حق آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے؟ اور یہ کہ کرافٹ کیسے کم تر ہو گیا۔
یہاں میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ انسانی تخلیق کے عمل کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کروں تاکہ معلوم ہو سکے کہ گمراہ کن نظریہ ء تخلیق کے نقصانات کیا ہوئے ہیں۔جب کوئی مسئلہ لگے بندھے طریقے سے حل نہ ہو پائے اور انسانی ذہن اُسے حل کرنے کی خواہش میں خیالات، تصورات، نظریات اور مادی وسائل کی نئی ترتیب اور ترکیب بنانے کی ایسی کوشش کر رہا ہو جو تجربے، مشاہدے اور شعور پر مبنی ہو، تخلیقی عمل کہلاتا ہے۔
 
جب ایک طبقے کو پیدا ہوتے ہی یہ مقام حاصل ہو گیا کہ بغیر محنت کے معاشرے میں وسائل اور عزت اُن کا حق ٹھہرا تو محنت اور خاص طور پر ہاتھ کے کام کو گھٹیا درجے کا کام مانا جانے لگا۔ ہاتھ سے کام کرنا طعنہ بن گیا۔ لیکن حویلیوں، محلوں اور قلعوں کے درودیوار کی زیبائش بھی انسانی ہاتھ ہی کی مرہونِ منت تھی کیونکہ مشین تو ہر خاص و عام کے تصرف کا سامان بنانے میں مصروف تھی اور صنعت کار کا فائدہ بھی اِسی میں پنہاں تھا۔ یاد رہے کہ یہ ہمارے ہاں یہ صنعت کار کوئی اجنبی نہیں تھا بلکہ اسی اشرافیہ کا وہ حصہ تھا جو جاگیر بیچ کر زراعت کی جگہ صنعت لگا رہا تھا۔ اِس لئے اشرافیہ کے ذوق جمال کی تسکین کے لئے کیے جانے والے انسانی کام کو دوسرے انسانی کاموں سے ممتاز کرنے کی غیر اخلاقی کوشش کی جانے لگی۔
 
اشرافیہ جسے یہ 'پیدائشی حق' حاصل ہے کہ وہ معیار طے کردے کہ کیا خوبصورت ہے اور کیا بدصورت اور خوبصورتی اور بد صورتی کو جانچنے کے اُصول بھی وضع کر دے۔ جس طرح معاشی، سیاسی اور معاشرتی قوانین طاقت ور طبقوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے بنائے جاتے ہیں، اِسی طرح کلاسیکیت کے نام پر آرٹ کو جانچنے کے پیمانے بھی حکمران طبقوں کی عصبیت اور افتخار کے قلعے کی دیواروں کا کام کرتے ہیں۔ان دیواروں میں تیر اندازوں اور بندوق برداروں کے لئے سوراخ بنائے گئے ہیں جن میں سے عام آدمی کے فن پر استہزاء کے تیر اور ذلت کی گولیاں برسائی جاتی ہیں۔
 
میں فن میں دیانت کا قائل ہوں اور عہد بہ عہد آگے بڑھنے والے انسانی تجربے، مشاہدے، علم، فہم اور شعور کی ترقی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ یہ ہم انسانوں کا مشترکہ سرمایہ ہے جسے قید کرنے کا حق کسی ایک طبقے، خطے، نظریے یا عہد کے لوگوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ دیکھنا محض یہ ہے کہ طویل اور پُر آشوب انسانی تاریخ سے ہم نے آج تک جو کچھ بھی کمایا ہے، وہ علم اور فن ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن بھی رہا ہے کہ نہیں۔ انسان کی محنت اور قربانی سے حاصل ہونے والی نعمتیں پوری انسانی نسل کے تخلیقی وجود میں بامعنی شکل اختیار کر سکی ہیں یا نہیں۔
 
اسلام جسے مدتوں انسانی حقوق کے محافظ نظریے کی حیثیت حاصل رہی بادشاہت اور ملوکیت کی نفسیات کے شکار لوگوں کے ہاتھوں یرغمال بنایا گیا۔جاگیرداری نظام کو مذہبی استدلال فراہم کرنے میں ابن الوقت ملا کا منفی کردار سامنے آیا جس کی معیشت اور گردن تابعداری سے مشروط تھی۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی مذہبی یا اسلامی معاشرے بھی انسانی فن میں طبقات کی بنیاد پر تفریق کرنے لگے۔ ہمارے معاشرے میں پیغمبرانہ دعوت کی روح بیدار کرنے سے جدید مغرب کی نسبت کچھ آسانی کے ساتھ اِس مرض کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
 
آج اگر ہم یہ چاہتے ہیں کی انسان اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کو اپنے تصرف میں لائے اور مادے کو اپنےاجتماعی مفاد میں تسخیر کر کے اپنے لئے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لئے دیرپا خیر کا سامان مہیا کرے۔ آج اگر انسان کی سیاسی، قانونی، معاشرتی اور معاشی زندگی مسائل کا شکار ہے تو وہ کون سی قوت ہے جو ان ہمہ جہت مسائل سے نبرد آزما ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں وہ انسان کا تخلیقی جوہر ہے جس کی افزائش کے بغیر ہمارا مستقبل تاریک ہے۔ ہمیں ہر اُس رکاوٹ پر نظر رکھنی ہے جو انسانوں کی عظیم تعداد کے تخلیقی جوہر کے آگے کھڑی ہو گئی ہے۔ ہمیں اپنےمسائل کے حل کے لئے اپنی سب سے طاقت ور صلاحیت کا بھرپور استعمال کرنا ہے۔
 

مجھے یقین ہے کہ آرٹ کے موجودہ تصور کو بدلنے سے ہمارا اجتماعی تخلیقی وجود ہمارے مسائل کے حل میں معاون بھی ہو گا اور بامعنی تصورِ جمال ہمیں سطحیت سے نکال کر فکر و فن کی بلندی سے ہمکنار کر سکے گا۔