فنون میں بالعموم مقامی فنکاروں کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ فلاں علاقے کا انداز بہتر ہے۔ جیسے یہ  فرینچ زبان انگریزی سے بہتر ہے۔ جیسے پاکستان میں رہنے والے نستعلیق نویسوں میں کچھ کا یہ خیال ہے کہ ایرانی نستعلیق کا انداز اختیار کرنا چاہیئے۔ جب اُن سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں کیا جائے تو جواب ملتا ہے کہ ہمیں وہ 'اچھا ' لگتا ہے۔ اب یہ حق تو کسی سے نہیں چھینا جا سکتا کہ وہ جس انداز کو 'اچھا' سمجھنا چاہے ، سمجھے۔ لیکن یہ تو پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ کیا خوبیاں ہیں جن کی بنیاد پر آپ ایرانی نستعلیق کو پسند کر رہے ہیں۔

 

یہ سوال بہت اہم ہے اور اس کا جواب جس قدر ذمہ دارانہ ہو گا اسی قدر اس غلط فہمی کا زالہ ہو پائے گا جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔

 

میرے خیال میں ہر فن میں کسی خاص انداز کا آغاز کسی نہ کسی مقام سے ہوتا ہے اور اس میں مقامی مزاج کا گہرا دخل ہوتا ہے۔ جوں جوں اس انداز کو قبولیتِ عام ملتی ہے یہ اپنے علاقے سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی سیکھا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ تک سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رہتا ہے اور پھر بنیادی اصولوں کی موجودگی میں اس فن کی ایک نئی شکل سامنے آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس شکل میں اس نئے مقام کے مزاج کو دخل ہے جہاں پہلے پہل اس انداز کو من و عن قبول کیا گیا تھا۔ اور کبھی کبھی کوئی مجتہد مزاج فنکار اس میں کچھ ایسی تبدیلیاں تجویز کرتا ہے جسے مقامی مزاج قبول کر لیتا ہے۔ اس طرح یہ یہ ایک مختلف انداز بننا شروع ہو جاتا ہے جس کا کوئی بھی مقامی نام جلد ہی سامنے آ جاتا ہے۔

 یہ  قدرتی عمل ہے۔

  فن میں پائی جانے والی خصوصیات کو  الگ دیکھنا چاہئیے اور اُن سے بننے والی اشکال کو الگ۔ اس طرح سے ہم بآسانی اُن محاسن کا علم حاصل کر سکتے ہیں جن کی موجودگی کسی فن کو اعلیٰ بناتی ہے۔

 مثال کے طور پر اگر خطِ نستعلیق کو لیا جائے اور دیکھا جائے کہ جلی یا بڑا لکھا جانے والا نستعلیق کس طرح خوبصورت لگے گا تو ہم کچھ باتیں طے کر سکتے ہیں۔

 1-پہلی یہ کہ جتنے فاصلے سے دیکھا جانے کے لئے لکھا جا رہا ہے، اُتنے فاصلے سے بآسانی پڑھا جا سکے۔

 2-دوسری یہ کہ نہ زیادہ کھلا محسوس ہو اور نہ زیادہ گھُٹا ہؤا

 3-اس میں خط کے اصول و ضوابط پائے جاتے ہوں (پیمائش )

 4-اس کی ترکیب یا کمپوزیشن آنکھوں کو بھلی لگے اور بار بار دیکھنے کوجی چاہے

 5-اس میں ایسی باریکی ہو جس کو آنکھ دیکھ کر سراہ سکے

 6-اس میں موٹائیاں اور کششیں (کھینچے گئے حروف) بھرپور اور طاقت ور ہوں

 7-الفاظ میں رعب، شان، نرمی، تواضع اور لطافت کا جا بجا احساس ہونا چاہیئے

 8- تفصیل سے دیکھنے پر خط میں دلنواز ادائیں، مہارتیں اور باریکیاں مل جاتی ہیں

 یہ خوبیاں کسی بھی خط  میں پائی جائیں گی تو وہ بھلا محسوس ہو گا۔ اب نستعلیق لاہوری کو لے لیں اور ایسے اساتذہ کا کام دیکھیں جن کے ہاں لطافت اور شان کابیک وقت اظہار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں کے  خط میں ان میں سے ایک یا چند خوبیاں موجود ہوں اور اُن کی پیمایش اُصولوں کے مطابق نہ ہو تو بھی خوبصورتی کا احساس ہوتا ہے بس یکسانیت کی شرط پر پورا اُرتا ہو۔

یہ بات کہ ہر علاقے میں فطری طور پر پروان چڑھنے والے خط کا مزاج اس علاقے کے فنکار کی زندگی، ماحول اور ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ جبکہ دوسرے علاقے کے خط کو من و عن نقل کرنے کا مطلب محض اداکاری ہے۔ جیسے اداکاری کبھی زندگی جیسی برجستہ اور قدرتی نہیں ہو سکتی  ویسے ہی کسی دوسرے علاقے کے فن کا انداز  برجستگی اور روانی کے معیار پر پورا نہیں اُتر سکتا۔

 

جاری۔